4 ستمبر 2012 - 19:30

ترکي کے وزير اعظم کے ايک سابق معاون نے کہا ہے کہ رجب طيب اردوغان صيہوني حکومت کے منصوبوں پر کام کررہے ہيں.

ابنا: ترک وزير اعظم رجب طيب اردوغان کے سابق معاون عبداللطيف شنرنے سي اين اين ٹيليويژن کے ايک پروگرام ميں کہا ہے کہ اسرائيل کے سلسلے ميں رجب طيب اردوغان کے وقتي ردعمل کے دھوکے ميں نہيں آنا چاہئے کيونکہ يہ سب عالمي رائے کو دھوکہ دينے کے لئے دونوں کي پہلے سے طے شدہ ہماہنگي کے ساتھ عمل ميں آتا ہے - انہوں نے کہا کہ وہ اردوغان کابينہ ميں شموليت کے زمانے ميں بارہا اس کے شاہد رہے ہيں - انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پرڈيووس اجلاس ميں جو کچھ ہوا تھا وہ اسرائيل اور ترکي کے درميان  پہلے سے طے شدہ ہماہنگي کے ساتھ ہوا تھا اور مقصد اسلامي دنيا ميں اردوغان کي مقبوليت بڑھانا تھا ت اکہ بعد ميں اس سے فائدہ اٹھايا جاسکے- انہوں نے کہا اب حالات کي منصوبہ بندي اس طرح کي گئي ہے کہ بيت المقدس کو اسرائيل کا دارالحکومت اعلان کيا جائے اور جب يہ ہو تو ترک وزير اعظم اس پر کوئي اعتراض نہ کريں کيونکہ انہوں نے خود اس کے لئے حالات کو سازگار کيا ہے –رجب طيب اردوغان کے سابق معاون نے شام کے حالات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام ميں يہ صورتحال اسرائيل کے خلاف تحريک مزاحمت خاص طور پر حزب اللہ کو کمزور کرنے کے لئے پيدا کي گئي ہے اور اس کا اصل مقصد گريٹر اسرائيل کي تکميل ہے ليکن رجب طيب اردوغان اس مسئلے کو اس طرح اٹھارہے ہيں  کہ گويا اس کا مقصد شام کے عوام کي حمايت ميں بشار اسد کي حکومت کو ختم کرنا ہے.

.....

/169